Breaking Tickers

Khawarij ki Haqeeqat/ خوارج کی حقیقت

Khawarij ki Haqeeqat/ خوارج کی حقیقت 

 
Khawarij ki Haqeeqat/ خوارج کی حقیقت
Khawarij ki Haqeeqat/ خوارج کی حقیقت 

 Khawarij ki Haqeeqat کیا ہے یا اصل میں خوارج کون تھے ؟ اس کہ متعلّق جاننا ضروری ہے.اسلامی تاریخ میں خوارج کا فتنہ ایک بہت بڑا فتنہ رہا ہے جو بنیادی طور پر انتہاپسندی اور سخت گیری کی وجہ سے پہچانا گیا-خوارج ابتدائی اسلامی تاریخ میں وہ گروہ تھے جو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے دور میں بعض سیاسی اور مذہبی اختلافات کی بنا پر مسلمانوں کی مرکزی جماعت سے الگ ہوگئے تھے۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ سختی سے اپنی رائے کو حق سمجھتے تھے اور دوسروں پر کفر کا فتویٰ لگاتے تھے، خاص طور پر ان افراد پر جو ان کے عقائد سے اختلاف رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب کافر اور دائمی جہنمی ہوتا ہے، جو اسلامی اعتدال کے خلاف ایک انتہا پسندانہ نظریہ تھا۔ ان کے نظریات میں شدت پسندی، تکفیری سوچ (دوسروں کو کافر قرار دینا) اور اسلامی اصولوں کی انتہاپسندانہ تشریح شامل تھی، جس کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں فتنہ و فساد کا باعث بنے۔
 غور کرنے والی بات ہے کہ خوارج دین میں نئی نئی بدعات ایجاد کرنے کے  مرتکب تھے.اُن میں تدبّر اور تفکر کی کمی تھی. اُن کا قرآن کی کسی آیت يا کسی عمل کا زور زیادہ تر ظاہری احکام پر تھا اور آج کے شخصیت پرستوں میں بھی خوارجوں والا عمل اور اثر دیکھنے کو ملتا ہے .جیسے کہ بدعت کے مرتکب ہیں اور سنت کے نام پر نئی نئی بدعات ایجاد کرتے رہتے ہیں اور انہیں سنت کا نام دیتے ہیں اور قرآن کی آیت کا اصل فہم کو چھوڑ کر ظاہری معنی مطلب نکالتے اور عمل کرتے ہیں.

    Khawarij ki Haqeeqat کیا ہے? آئیے دیکھتے ہیں قرآن و سنت کی روشنی میں.خوارج اسلام کی تاریخ میں ایک اہم اور متنازعہ گروہ تھے۔ ان کا ظہور حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ خوارج کا مطلب ہے “باہر نکلنے والے” اور یہ نام انہیں اس لئے دیا گیا کیونکہ انہوں نے حضرت علیؓ کی خلافت کے خلاف بغاوت کی تھی۔

    خوارج کی لغوی تعریف :

     خوارج خارج کی جمع ہےجوخروج سےمشتق ہے ،کیونکہ ان کا یہ نام ان کےخروج کی وجہ سےپڑا ہے ، چاہےدین سےنکل جانےکی وجہ سےیا علی رضی اللہ عنہ کےخلاف خروج کی وجہ سےخواہ مسلمانوں کے خلاف خروج کی وجہ سے. 
    (دیکھئے :تہذیب اللغۃ :7/50،تاج العروس :2/30 ،اورفرق معاصرہ :1/66)

    Read This: 

    خوارج کی ابتدا

     

    خوارج کی ابتدا جنگ صفین کے بعد ہوئی جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان صلح کی کوشش کی گئی۔ خوارج نے اس صلح کو قبول نہیں کیا اور حضرت علیؓ کو کافر قرار دیا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ صرف اللہ کا حکم مانا جائے اور کسی انسان کا نہیں، اس لیے انہوں نے “لا حکم الا للہ” کا نعرہ بلند کیا

    خوارج کی خصوصیات

    خوارج کی خصوصیات میں شدت پسندی، تنگ نظری، اور اپنے عقائد میں سختی شامل تھی۔ وہ اپنے نظریات کے خلاف کسی بھی شخص کو برداشت نہیں کرتے تھے اور ان کے خلاف جنگ کرتے تھے اُن پر کُفر کا فتویٰ لگاتے تھے. انہوں نے نہروان کی جنگ میں حضرت علیؓ کے خلاف لڑائی کی، جس میں ان کی اکثریت مارے گئے.

    خوارج کے عقائد

    خوارج کا عقیدہ تھا کہ جو شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو، وہ کافر ہے اور دائمی طور پر جہنم میں جائے گا۔ اس عقیدے کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کے خلاف بغاوت کرتے تھے اور انہیں کافر قرار دیتے تھے. اُن کا عقیدہ تھا کہ ہر مسلمان، چاہے وہ کسی بھی نسل یا قوم سے ہو، خلافت کا اہل ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اخلاقی طور پر بے عیب ہو۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ گناہگار خلفاء کے خلاف بغاوت کریں اور انہیں معزول کریں.

    قرآن کی ظاہری تلاوت

    خوارج قرآن کی ظاہری تلاوت اور حفظ میں بہت آگے تھے، لیکن ان میں تدبر اور تفکر کی کمی تھی۔ ان کا زور زیادہ تر ظاہری اعمال پر تھا. وہ کسی آیت یا اعمال کا صرف ظاہری معنی مطلب نکال کر اُسی پر فیصلہ صادر کر دیتے تھے.

     

    خوارج کی نمایاں بدعات

     خوارج دین میں نئی نئی بدعات ایجاد کرتے تھے۔ وہ قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کا خود ساختہ اطلاق کرتے اور غلط تاویل کے ذریعے اپنے مخالف مسلمانوں کو واجب القتل ٹھہراتے تھے۔ ذیل میں ان کی چند نمایاں بدعات درج کی جاتی ہیں جن میں سے اکثر کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا :
    خوارج نے اسلام کی تاریخ میں کئی بدعتیں ایجاد کیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی بدعتوں میں سے چند اہم یہ ہیں:

      گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر قرار دینا:

    خوارج کا عقیدہ: خوارج کا یہ نظریہ تھا کہ جو شخص کبیرہ گناہ (مثلاً جھوٹ، چوری، زنا) کا مرتکب ہو، وہ کافر ہو جاتا ہے اور اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق گناہ کبیرہ کا مرتکب مسلمان گناہ گار تو ہوتا ہے لیکن کافر نہیں ہوتا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    "إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ" (سورة النساء: 116)
    (ترجمہ: بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس کے علاوہ جس کو چاہے معاف کر دے گا)۔
    اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کبیرہ گناہ کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معافی ممکن ہے، اور ایسے گناہوں سے انسان اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔

      مسلمانوں کی تکفیر (کفر کا فتویٰ دینا):

    خوارج کا عقیدہ: خوارج نے ان لوگوں کو کافر قرار دیا جو ان کے نظریات اور فتوؤں سے متفق نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے خلاف لڑائی جائز ہے اور انہیں قتل کرنا بھی۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

    "إذا قال الرجل لأخيه يا كافر، فقد باء بها أحدهما" (صحیح بخاری: 6104)
    (ترجمہ: جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر کہے، تو یہ لفظ ان دونوں میں سے ایک پر لوٹ آتا ہے)۔
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو بغیر دلیل کے کافر کہنا خود اس شخص کو کفر کے قریب لے جاتا ہے۔

      خلیفہ کے خلاف بغاوت اور جنگ:

    خوارج کا عقیدہ: خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی اور ان کے خلاف جنگیں کیں، جسے وہ جائز سمجھتے تھے۔
      نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "من أتاكم وأمركم جميع على رجل واحد يريد أن يشق عصاكم أو يفرق جماعتكم فاقتلوه" (صحیح مسلم: 1852)
    (ترجمہ: جب تمہارے معاملے پر ایک شخص پر اتفاق ہو جائے، تو جو کوئی تمہاری جماعت میں اختلاف پیدا کرنے آئے اسے قتل کر دو)۔
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کو توڑنا اور خلیفہ کے خلاف بغاوت کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

      ظاہری احکام کی سختی سے پابندی:

    خوارج کا عقیدہ: خوارج کا یہ عقیدہ تھا کہ قرآن و سنت کے ظاہری احکام کی سختی سے پابندی کی جائے، اور اجتہاد کو مسترد کرتے تھے۔

      اسلام میں اجتہاد کی اجازت ہے اور اس کے ذریعے دین میں نئے مسائل کا حل نکالنا مشروع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا:
    بِمَ تَقْضِي؟ قَالَ: أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي" (سنن الترمذی: 1327)
    (ترجمہ: آپ کیسے فیصلہ کریں گے؟ حضرت معاذ نے کہا: اللہ کی کتاب سے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں نہ ملے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ کی سنت سے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سنت میں بھی نہ ملے؟ حضرت معاذ نے کہا: میں اجتہاد سے فیصلہ کروں گا)۔
    اس حدیث سے اجتہاد کی مشروعیت واضح ہوتی ہے۔
    خوارج کی یہ بدعتیں اسلامی معاشرے میں فتنہ اور انتشار کا سبب بنیں اور ان کے عقائد کی وجہ سے امت میں بڑی تقسیم پیدا ہوئی

    خوارج میں دو بدعات ایسی ہیں جو ان ہی کا خاصہ ہیں اور جن کی آڑ لے کر انہوں نے اہلِ اسلام اور اسلامی ریاست کا ساتھ چھوڑا : ایک یہ کہ انہوں نے سنت سے انحراف کیا؛ دوسری یہ کہ ’’امورِ حسنہ‘‘ کو ’’امور سیئہ‘‘ اور ’’امور سیئہ‘‘ کو ’’امور حسنہ‘‘ بنا دیا۔
    (ابنِ تيميه، مجموع فتاويٰ، 19 : 72، 73)

    خوارج کی نشانیاں:

    نبی کریم ﷺ نے خوارج کی کئی نشانیاں بیان فرمائی ہیں، جو احادیث میں تفصیل کے ساتھ ذکر کی گئی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے چند اہم یہ ہیں:

    کم عمری اور جذباتی شدت:

    حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آخر زمانہ میں ایسے لوگ آئیں گے جو کم عمر ہوں گے اور جذبات میں جلدی شدت اختیار کریں گے۔"(صحیح بخاری: 5057)

    ظاہری طور پر نماز اور عبادات میں شدت:

    خوارج کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ ظاہری طور پر بہت زیادہ عبادت کرنے والے ہوں گے، ان کی نماز اور روزے دیکھ کر انسان اپنی عبادات کو کم سمجھے گا، لیکن وہ دین سے اس طرح خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔(صحیح بخاری: 3344)

    قرآن کی تلاوت لیکن صحیح سمجھ نہ ہونا:

    نبی ﷺ نے فرمایا: "وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔" یعنی وہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر اس کی روح اور فہم سے خالی ہوں گے۔(صحیح مسلم: 1066)

     دین میں غلو اور انتہا پسندی:

    خوارج کی ایک اور نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دین میں غلو کریں گے اور اعتدال کی راہ چھوڑ کر انتہا پسندی کی طرف جائیں گے۔ وہ دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں جلدی کریں گے اور ان کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے۔(صحیح بخاری: 6930)

     مسلمانوں کو کافر قرار دینا:

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔" یعنی وہ مسلمانوں کو کفر کا فتویٰ دے کر ان کے خلاف جنگ کریں گے، جبکہ ان کا اصل دشمن کفار ہوں گے۔(صحیح بخاری: 3344)
    وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مومنین پر کریں گے۔(بخاری 6 : 2539)

    سر منڈے ہوئے ہوں گے:

    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ نشانیوں کو ذکر کیا کہ:
     حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"ایک قوم نکلے گی، ان میں سے ایک کی نشانی یہ ہوگی کہ ان کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔ وہ اپنے سر منڈوائیں گے۔"(صحیح بخاری: 6930, صحیح مسلم: 1066)

    غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے۔(حاکم، المستدرک، 2 : 166، رقم : 2657)
    گناہ کبیرہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی اور اس کا خون اور مال حلال قرار دیں گے۔
    جس نے اپنے عمل اور غیر صائب رائے سے قرآن کی نافرمانی کی وہ کافر ہے۔
    ظالم اور فاسق حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو فرض قرار دیں گے۔
    عبد القاهر بغدادی، الفرق بين الفرق : 73, ابن تيميه، مجموع فتاوی، 13 : 31

    یہ علامات خوارج کی نشاندہی کرتی ہیں اور نبی کریم ﷺ نے ان کی گمراہی سے امت کو خبردار کیا ہے تاکہ لوگ ان کے فتنے سے بچ سکیں۔ابتدائی تاریخ سے ہی یہ امر مترشح ہوتا ہے کہ خوارج اپنے عقائد و نظریات اور بدعات میں اس قدر انتہاء پسند تھے کہ اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی (نعوذ باﷲ) کافر خیال کرتے اور ان پر کفر کے فتوے لگانے سے نہ ہچکچاتے

    Note:

    اکثر social media پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے خوارج کی نشانیوں میں سے ایک یہ نشانی بتائی جاتی ہے کے وہ سر منڈے ہوئے ہونگے اور جو بھی توحید کی دعوت  یا قرآن اور حدیث کی طرف بلانے والے ہیں ان کو خوارج سے ناطہ جوڑ دیا جاتا ہے تو اُن سے پوچھنا ہے کہ اس حدیث کے بارے میں کیا کہیں گے آپ ؟
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے جنابت میں ایک بال کی جگہ بھی چھوڑ دی اور اسے نہ دھویا تو اس کے ساتھ آگ میں ایسے اور ایسے کیا جائے گا ۔‘‘ ( یعنی عذاب دیا جائے گا ) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن بن گیا ہوں ۔ میں اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن بن گیا ہوں ۔ میں اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن بن گیا ہوں ۔ آپ اپنے بال منڈائے رکھتے تھے ۔ (سنن ابو داؤد:249)

    اسی لئے کسی پر الزام لگانے سے پہلے سوچ سمجھ لیا کریں تو بہتر ہوگا. کہیں گستاخ نہ بن جائیں.

    خوارج کے سلسلےمیں علماء کے اقوال:

    حافظ ابنِ حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں :

    ’’خوارج، خارجۃ کی جمع ہے جس کا مطلب ہے : ’’گروہ۔‘‘ وہ ایسے لوگ ہیں جو بدعات کا ارتکاب کرتے۔ ان کو (اپنے نظریہ، عمل اور اِقدام کے باعث) دینِ اسلام سے نکل جانے اور خیارِ اُمت کے خلاف (مسلح جنگ اور دہشت گردی کی) کارروائیاں کرنے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔‘‘ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 12 : 283
    امام بر بہاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    جو کسی مسلمان حکمران کے خلاف بغاوت کرے وہ خارجی ہے، ایسے شخص نے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا اور احادیث کی مخالفت کی اور اس کی موت جاہلیت کی ہوگی ۔ [شرح السنة للبربهاري: 29/1]
    امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    خوارج ناپاک اور پلید قوم ہے، جو زمانہ قدیم وجدید میں پیدا ہوتی رہی ہے۔ یہ لوگ حکام و سلاطین کے خلاف بغاوت اور اہل اسلام کا خون بہانا جائز سمجھتے ہیں ۔ الشريعة للآجري : 41/1
    امام شہرستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ہر وہ شخص خارجی کہلاتا ہے جو مسلمانوں کے متفقہ حکمران کے خلاف بغاوت کرے، خواہ ایسی بغاوت عہد صحابہ میں نیک و پاک باز حکمرانوں کے خلاف ہوئی ہو، یا دور تابعین میں ہو، یا کسی بھی زمانے کے مسلمان حکمرانوں کے خلاف ہو۔“(الملل والنحل : 1/113)
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    خوارج وہ لوگ ہیں جنھوں نے سب سے پہلے مسلمانوں کو کافر قرار دیا، یہ لوگ گناہوں کے سبب کسی کو کافر کہتے ہیں اور (اسی طرح) اس شخص کو بھی کافر کہتے ہیں جو ان کی بدعت ( عقیدہ تکفیر ) کی مخالفت کرے اور ( اس بنا پر ) وہ اس کی جان (لینا) اور مال (لوٹنا ) جائز قرار دیتے ہیں ۔(مجموع الفتاوى:279/3)
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
    ”سب سے پہلے انھی نے اہل قبلہ ( اہل اسلام) کو معصیت کے سبب کافر قرار دیا، بلکہ ایسے عمل کے سبب بھی جسے بزعم خود وہ معصیت سمجھتے ہیں ( حالانکہ وہ معصیت ہے ہی نہیں ) اور اس ( تکفیر ) کو دلیل بنا کر اہل اسلام کا خون بہاناجائز قرار دے دیا۔ [ مجموع الفتاوى :481/7 ]
    مزید فرماتے ہیں: ان (خوارج) کی دو خصوصیات ایسی ہیں جن کی بنا پر یہ مسلمانوں اور ان کے حکام سے جدا ہو جاتے ہیں ۔
    ان کا سنت نبوی سے ہٹ کر کسی ایسے فعل کو برائی قرار دینا جو اصل میں برائی ہے ہی نہیں، یا کسی ایسی چیز کو اچھائی قرار دے دینا جو اچھائی ہے ہی نہیں اور یہی وہ خصلت ہے جس کا اظہار ( خوارج کے جد امجد ) ذوالخویصرہ تمیمی نے آپ ﷺ کے سامنے یہ کہتے ہوئے کیا تھا : ” اے محمد ! انصاف کرو ، تم نے انصاف نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ آپ نے اسے فرمایا: ”تیرا ناس ہو جائے ، اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو اور کون کرے گا ، اگر میں بے انصافی کرنے لگ جاؤں تو ناکام و نامراد ہو جاؤں گا۔
    یہ (خوارج ) اہل اسلام کی محض گناہوں کی بنا پر تکفیر کرتے ہیں اور پھر اس ( مزعومہ ) کفر کے سبب ان کا خون بہانا اور مال لوٹنا روا قرار دے لیتے ہیں۔ اہل اسلام کے ملک کو دار الحرب اور اپنے ملک کو دارالاسلام کا نام دیتے ہیں۔(مجموع الفتاوى : 72/19)

    امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    خوارج وہ لوگ ہیں جنھوں نے سیدنا علی پر بوجہ تحکیم ( یعنی جب جنگ صفین کے موقع پر سیدنا علی نے صلح کے لیے دو ثالثوں کے ذریعے فیصلہ کروانا چاہا تو خوارج نے اس عمل کو شرک و کفر قرار دے کر علیحدگی اختیار کر لی۔) اعتراض کیا اور سیدنا علی و عثمان سے علیحدگی و بیزاری کا اظہار کیا اور ان سے جنگ کی ۔ ان میں سے زیادہ متشدد و انتہا پسند وہ خوارج ہیں جنھوں نے انھیں ( سیدنا علی و عثمان کو کافر بھی قرار ديا [ هدي الساري : 459 ]
    ابن حجر رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
    خوارج وہ قوم ہے جنھوں نے اہل اسلام اور مسلمان حکمرانوں کے خلاف جنگ اور بغاوت کی بدعت ایجاد کی ، اسی وجہ سے ان کا نام خوارج ( بغاوت کرنے اور اسلام سے نکلنے والے) رکھا گیا " ( فتح الباري : 12/496)
    Note: علمائے کرام کے اس سارے کلام کا خلاصہ یہ ہے، تمام قسم کے خوارج حکمرانوں کے خلاف بغاوت ( خروج) کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے اس ( خوارج کے نام سے موسوم ہوئے۔

    حضرت علیؓ کا رد عمل خوارج کے خلاف

    حضرت علیؓ کا رد عمل خوارج کے خلاف ایک مثالی نمونہ ہے کہ کس طرح ایک اسلامی رہنما کو شدت پسندوں اور باغیوں کے خلاف حکمت، صبر، اور عدل و انصاف کے ساتھ کارروائی کرنی چاہیے۔
    ابتدائی مرحلہ
    ابتدائی طور پر، حضرت علیؓ نے خوارج کو سمجھانے اور ان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے خوارج کو واپس لانے اور ان کے غلط عقائد کو درست کرنے کی کوشش کی.

     جنگ نہروان
    جب خوارج نے بغاوت کی اور مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کی، تو حضرت علیؓ نے ان کے خلاف جنگ نہروان میں کارروائی کی۔ اس جنگ میں خوارج کی اکثریت مارے گئے اور ان کی بغاوت کو ختم کیا گیا.(صحیح بخاری، کتاب استتابۃ المرتدین)

    حکمت اور صبر
    حضرت علیؓ نے خوارج کے ساتھ صبر اور حکمت سے کام لیا۔ انہوں نے ان کے ساتھ نرمی برتی اور انہیں بار بار سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن جب خوارج نے مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور قتل و غارت گری شروع کی، تو حضرت علیؓ نے ان کے خلاف سخت کارروائی کی.

     عدل و انصاف
    حضرت علیؓ نے خوارج کے ساتھ عدل و انصاف کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی نہیں کی اور ان کے حقوق کا احترام کیا۔ لیکن جب خوارج نے اسلامی ریاست کے خلاف بغاوت کی، تو حضرت علیؓ نے ان کے خلاف جنگ کی.
    خوارج کو جنگ نہروان میں شکست تو ہوئی، لیکن ان کا فتنہ پوری طرح ختم نہ ہوا۔ بعد میں بھی خوارج مختلف شکلوں میں سر اٹھاتے رہے اور اسلامی تاریخ میں ایک بڑا فتنہ بنے رہے۔حضرت علی کا خوارج سے جنگ کرنے کا مقصد امت مسلمہ کو ان کے فتنے سے محفوظ رکھنا تھا، اور انہوں نے اس فتنے کا مقابلہ بہادری اور حکمت کے ساتھ کیا۔

    خوارج کو قتل کرنے سے متعلق کچھ احادیث:

    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ سونا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا، جسے آپ ﷺ نے چار افراد میں تقسیم کیا: اقرع بن حابس، عیینہ بن بدر، زید طائی اور علقمہ بن علاثہ۔ اس پر قریش اور انصار کے بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ انہیں نظرانداز کر دیا گیا۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ ان لوگوں کو اس لیے دیا تاکہ ان کے دل اسلام کے قریب ہو جائیں۔
    اسی دوران ایک شخص سامنے آیا، جس کی شکل و صورت مخصوص تھی، اور اس نے گستاخی کرتے ہوئے آپ ﷺ سے کہا کہ "اللہ سے ڈرو۔" آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں تو کون اللہ کا فرمانبردار ہو سکتا ہے؟ اس پر ایک صحابی نے اس شخص کے قتل کی اجازت چاہی، لیکن آپ ﷺ نے انہیں روک دیا۔
    پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل یا قوم میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو بظاہر قرآن پڑھیں گے لیکن اس کی حقیقت کو نہیں سمجھیں گے۔ وہ دین سے اس طرح خارج ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، اور مسلمانوں کو قتل کریں گے جبکہ مشرکین کو چھوڑ دیں گے۔ اگر میں اس وقت زندہ ہوا، تو انہیں قوم عاد کی طرح نیست و نابود کروں گا۔
    (صحیح البخاری:3344۔ صحیح مسلم:1064)

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سناؤں تو مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں آسمان سے گر پڑوں، بجائے اس کے کہ میں آپ ﷺ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کروں۔ اور جب میں تم سے اپنے معاملات پر بات کروں تو "جنگ ایک چال ہے" کے اصول سے استفادہ کر سکتا ہوں۔ لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "آخری زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی، جو نوجوان اور کم عقل ہوگی۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر اسے سمجھ نہیں پائیں گے اور دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جب تم ان سے ملو تو انہیں قتل کر دینا، اور جو انہیں قتل کرے گا اسے قیامت کے دن اجر ملے گا۔‘‘ مُسلم:1066,بُخاری:6930

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
    زید بن وہب جہنی رحمہ اللہ نے حدیث سنائی کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ( اور ) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگو ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت سے کچھ لوگ نکلیں گے ، وہ ( اس طرح ) قرآن پڑھیں گے کہ تمھاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمھاری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمھارے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی ۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے ، حالانکہ وہ ان کے خلاف ہو گا ، ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی ، وہ اس طرح تیز رفتاری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے ۔‘‘ اگر وہ لشکر ، جو ان کو جا لے گا ، جان لے کہ ان کے نبی ﷺ کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے ( بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر ) بھروسا کر لیں۔مُسلم:2467

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
    یسیر بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سہل بن حنیف سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے خوارج کا ذکر سنا ہے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں! میں نے آپ ﷺ کو سنا تھا اور آپ مشرق ( عراق ) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ” (وہاں) ایک ایسی قوم ( ظاہر ) ہوگی جو اپنی زبانوں سے قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلقوں سے آگے نہیں بڑھ سکے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے ہدف سے نکل جاتا ہے ۔“ [ مسلم : 1068]

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” کچھ لوگ مشرق کی طرف سے نکلیں گے اور قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، یہ لوگ دین سے اس طرح دور پھینک دئیے جائیں گے جیسے تیر پھینک دیا جاتا ہے ۔ پھر یہ لوگ کبھی دین میں نہیں واپس آ سکتے ، یہاں تک کہ تیر اپنی جگہ ( خود ) واپس آ جائے ، پوچھا گیا کہ ان کی علامت کیا ہو گی ؟ تو فرمایا کہ ان کی علامت سر منڈوانا ہو گی ۔“بُخاری:7562

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
    سیدنا علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ”آخری زمانے میں ایک ایسی قوم ہو گی جو قرآن پڑھے گی مگر وہ ان کے حلق سے آگے نہ گزر سکے گا ، وہ اسلام سے یوں خارج ہو جائیں گے جیسے تیر شکار ہے۔ ان سے جنگ کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ( مسند أحمد :1349)

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا“، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بیسیوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا۔(اِبنِ ماجہ:174)

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*
    ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوارج کا ذکر کیا اور فرمایا : ’’وہ میری امت کے بد ترین لوگ ہیں اور انہیں قتل کرنے والے میری اُمت کے بہترین لوگ ہوں گے۔‘‘ هيثمی، مجمع الزوائد ، 6 : 239

    قرآن کی ایک آیت سے متعلق مفسرین اور اماموں کا بیان

    قرآن کریم میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
    وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جس میں سے کچھ آیتیں محکم (یعنی ظاہراً بھی صاف اور واضح معنی رکھنے والی) ہیں وہی (احکام) کتاب کی بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ (یعنی معنی میں کئی احتمال اور اشتباہ رکھنے والی) ہیں۔ سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اس میں سے صرف متشابہات کی پیروی کرتے ہیں (فقط) فتنہ پروری کی خواہش کے زیر اثر اور اصل مراد کی بجائے من پسند معنی مراد لینے کی غرض سے، اور اس کی اصل مراد کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور علم میں کامل پختگی رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، ساری (کتاب) ہمارے رب کی طرف سے اتری ہے، اور نصیحت صرف اہل دانش کو ہی نصیب ہوتی ہے 7:3
    ابنِ أبي حاتم رازی، تفسير القرآن العظيم، 2 : 594 میں مذکور آیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ
    حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ ﴿فَأَمَّا الَّذِيْنَ فِی قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ﴾ (سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے) کی تفسیر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ اِن سے مراد خوارج ہیں۔‘‘

      حافظ ابن کثیر نے بھی اس آیت کی تفسیر میں جو حدیث بیان فرمائی ہے، اس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اہل زیغ ۔ جو متشابہات کی پیروی کرتے ہیں ۔ سے مراد ’’خوارج‘‘ ہیں ابنِ کثير، تفسير القرآن العظيم، 1 : 347

    مفسر شہیر امام خازن رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر لباب التاویل میں اہلِ زَیغ کی تفسیر فرماتے ہوئے جن گمراہ فرقوں کا نام لیا ہے ان میں خوارج کا نام بھی شامل ہے.خازن، لباب التأويل، 1 : 217

    ابو حفص الحنبلی نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی جو مفصل روایت بیان فرمائی ہے، وہ بڑی ہی فکر انگیز، حقیقت کشا اور قابلِ غور ہے۔ یہ روایت اہلِ زَیغ کی اصلیت اور ان کے باطنی انجام کو پوری طرح بے نقاب کر دیتی ہے۔ ابو حفص الحنبلی مذکورہ آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں :

    حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ (آیت مذکورہ میں اہل زَیغ سے) مراد خوارج ہیں۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ جب بھی یہ آیت کریمہ تلاوت کرتے تو فرماتے : میں نہیں سمجھتا کہ اہل زیغ سے خوارج کے علاوہ کوئی اور گروہ بھی مراد ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ابو غالب روایت کرتے ہیں : میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دمشق کی جامع مسجد کی طرف چل رہا تھا اور وہ دراز گوش پر سوار تھے۔ جب وہ مسجد کے دروازے کے قریب پہنچے تو حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : خوارج دوزخ کے کتے ہیں۔ انہوں نے یہ تین بار فرمایا۔ پھر انہوں نے ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا اور بتایا : آسمان کے نیچے یہ بدترین لوگ ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے انہیں قتل کیا اور وہ بھی خوش نصیب ہیں جو ان کے ہاتھ سے شہید ہوئے۔ یہ بتا کر ابو امامہ رونے لگ گئے۔ ان کی بد نصیبی پر بہت ہی افسردہ ہوئے اور بتایا : یہ مسلمان تھے لیکن اپنی کرتوتوں سے کافر ہو گئے۔ پھر یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی جس میں ’’اہل زیغ‘‘ کا ذکر ہے۔ ابو غالب روایت کرتے ہیں : میں نے ابو امامہ سے پوچھا : کیا یہی (خوارج) وہ (اہل زیغ) لوگ ہیں؟ بولے : ہاں! میں نے پوچھا : آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا ان کے بارے میں آپ نے یہ سب کچھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا : اگر ایسی بات ہو تب تو میں بڑی جسارت کرنے والا کہلاؤں گا۔ میں نے ایک، دو یا سات بار نہیں بلکہ بارہا یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، اگر یہ بات سچی نہ ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات تین بار فرمائے۔‘‘

     حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو امام سیوطی نے بھی اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل زیغ سے ’’خوارج‘‘ مراد لیے ہیں. سیوطی، الدر المنثور، 2 : 148

    النّحاس نے بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی حدیث ذکر کی ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہل زیغ، خوراج ہی ہیں۔النحاس، معانی القرآن، 1 : 349

    جب امام ابنِ ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ سے سورہ آل عمران کی آیت 106 میں ذِکر ایمان لانے کے بعد کفر کون کرینگے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا

    ’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس (آیت میں ایمان لانے کے بعد کافر ہو جانے والوں) سے ’’خوارج‘‘ مراد ہیں۔‘‘ابنِ أبي حاتم، تفسير القرآن العظيم، 2 : 594

    حافظ ابن کثیر نے بھی آیت مذکورہ کے تحت اس سے خوارج ہی مراد لیے ہیں.ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 1 : 347

    امام سیوطی کا بھی یہی موقف ہے۔ انہوں نے بھی اس آیت میں مذکور لوگوں سے ’’خوارج‘‘ ہی مراد لئے ہیں۔سيوطی، الدر المنثور، 2 : 148

    حاکم کی اطاعت

    سیدنا انس بن مالک یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: (اپنے حاکم کی بات ) سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ کسی حبشی کو ہی تم پر حکمران بنا دیا جائے ، جس کا سر منقی جیسا ہو ۔ “ [ بخاري : 693]

    سیدنا عبد اللہ بن عباس نبی کریم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جسے اپنے حکمران کی کوئی چیز ( عادت، خصلت) ناپسند ہو تو اسے صبر سے کام لینا چاہیے، کیونکہ جو شخص سلطان (کی اطاعت ) سے بالشت بھر بھی دور ہوا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ [بخاري 7053]

    جنادہ بن ابی امیہ ذکر کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبادہ بن صامت کے پاس حاضر ہوئے جب وہ بیمار تھے۔ ہم نے عرض کیا کہ اللہ آپ کو صحت عطا فرمائے، ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جس سے اللہ تعالی نے آپ کو نفع پہنچایا ہو اور جسے آپ نے رسول اللہ صلی علیم سے سنا ۔ انھوں نے فرمایا:

    ہمیں نبی کریم نے بلایا تو ہم نے آپ کی بیعت کی۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ آپ نے ہم سے جن باتوں کا عہد لیا تھا وہ یہ تھیں کہ ہم اپنی پسند اور ناپسند، تنگی اور آسانی کی حالت میں اور اپنی حق تلفی پر ( صبر کرتے ہوئے) ہر حال میں حکمران کی سمع و طاعت کریں گے ۔(بُخاری 7055,7056)

    سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا : ” مسلمان آدمی پر ( اپنی پسند و نا پسند ) ہر حالت میں ( حکمران کی ) سمع و طاعت فرض ہے، بشرطیکہ اسے ( حکمران کی طرف سے) معصیت (گناہ) کا حکم نہ دیا جائے۔ لہذا اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر کوئی سمع و طاعت فرض نہیں “ [ بخاري : 7144]

    سیدنا وائل حضرمی بیان کرتے ہیں کہ جب رسولِ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر ایسے حکمران ہم پر مسلط ہو جائیں جو اپنا حق طلب کرے مگر ہمیں ہمارے حق سے محروم رکھے تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا تم حکام کا حکم سنو اور اسکی حکم کی تعمیل کرو، کیونکہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے ذمّہ دار ہیں اور تم اپنے فرائض کے ذمّہ دار ہو۔مُسلم :1864

    المومنین سیدہ ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : " آئندہ کچھ ایسے حکمران ہوں گے جن کے کچھ کام بھلائی اور کچھ برائی کے ہوں گے، جس نے ( ان کی بھلائی کو ) اچھا کہا تو وہ بھی بری الذمہ ہو گیا اور جس نے ( ان کی برائی کو ) برا کہا وہ بھی (خاموش رہنے کے جرم سے) بچ گیا، لیکن جس نے (ان کی برائی کو ) پسند کیا اور (برائی میں ) پیروی کی ( تو وہ اللہ کے ہاں مجرم ہو گا ) ۔“

    صحابہ کرام نے ( یہ سن کر ) کہا : " کیا ہم ان (حکمرانوں ) سے جنگ نہ کریں؟“ نے فرمایا : نہیں، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں۔ (یعنی اس وقت تک ان کے خلاف بغاوت نہ کرنا ) [ مسلم : 1854 ]

    سورہ النساء : 59 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:

    ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔

    رسول اللہ نے فرمایا :
    میں جب تمھیں کسی چیز سے روک دوں تو رک جایا کرو اور جب کسی کام کا حکم دوں تو حتی المقدور اسے بجالایا کرو۔ ( بخاری : 7288 ]

    ابن عباس فرماتے ہیں :
    میرے خیال میں یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے، (کیونکہ) میں انھیں ( کسی مسئلے میں ) کہتا ہوں کہ آپ ﷺ نے یوں کیا اور یہ کہتے ہیں کہ ابو بکر و عمر نے تو یوں کیا تھا، (یعنی سنت نبوی کے بجائے صحابہ کے عمل کو لازم پکڑتے ہیں ) ۔ مسند أحمد :337/1، ح : 3120]

    حج تمتع کے مسئلہ میں گفتگو کے دوران ایک شخص نے عبداللہ بن عمر سے کہا : ” آپ کے والد ( عمر ہی ) نے تو اس ( حج تمتع سے منع فرمایا ہے۔ تو جواب میں ابن عمر نے فرمایا : ” یہ بتاؤ کہ اگر میرے والد نے اس سے روکا اور رسول اللہ نے وہ کام کر کے دکھایا تو ہم اتباع کس کی کریں گے؟ میرے والد کی یا رسول اللہ کی ؟“ اس پر وہ آدمی کہنے لگا کہ ہاں ! بات تو رسول اللہ ہی کی مانی جائے گی۔ تو ابن عمر نے فرمایا: سن لو! یہ کام ( حج تمتع ) رسول الله نے کیا تھا۔" ( ترمذی : 824)

    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    علمائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ جب کسی مسئلے میں سنت نبوی واضح طور پر ثابت ہو جائے تو کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی اور کے کہنے پر اس (سنت) سے روگردانی کرے۔ علماء کے اقوال دلیل نہیں بن سکتے جب تک ان کے لیے شریعت سے دلیل موجود نہ ہو ۔“ [ إعلام الموقعين : ۲۸۲/۲]


                 👍🏽        ✍🏻       📩        📤       🔔
              Like comment save share subscribe 


    Conclusion:

    Khawarij ki Haqeeqat اسلامی تاریخ کا ایک اہم ،متنازعہ اور سبق آموز باب ہے۔ ان کی انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی نے انہیں مسلمانوں کے مرکزی دھارے سے الگ کر دیا مسلمانوں کے درمیان تفرقے اور فتنہ کا سبب بنا،۔ ابتدا میں خوارج نے دین کی پیروی کے جذبے سے جنم لیا، مگر ان کے سخت گیر نظریات نے انہیں دوسرے مسلمانوں سے دور کر دیا۔ ان کی خاص پہچان دوسروں کو کافر قرار دینا اور اپنے عقائد سے اختلاف رکھنے والوں کے خلاف شدت اختیار کرنا تھا، جو اسلامی اصولوں کے خلاف تھا۔ ان کے خیالات نے امت میں انتشار اور تفرقے کا بیج بویا، جس کے نتیجے میں انہیں مسلمانوں کی اکثریت نے رد کر دیا۔ علماء نے ان کی انتہا پسندی کو پہچانا اور امت کو ہمیشہ ان کے نظریات سے بچنے اور  ان کے افکار و اعمال سے دور رہنے کی تلقین کی۔۔ یوں خوارج کے نظریات اور افکار ایک انتباہ بن گئے کہ دین میں میانہ روی اور اعتدال پسندی ہی اسلامی تعلیمات کا حقیقی راستہ ہے۔
    خوارج کی انتہا پسندی کی وجہ سے انہیں کئی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سب سے مشہور جنگ نہروان ہے، جہاں ان کا سختی سے خاتمہ کیا گیا۔ اگرچہ خوارج کی تحریک ختم ہو گئی، مگر ان کی نظریات آج بھی مختلف انتہاپسند گروہوں میں زندہ ہیں۔ اس لیے، اسلامی معاشرتی روایات اور اعتدال پر زور دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے خطرناک افکار کا مقابلہ کیا جا سکے۔


    FAQs:

    :
    سوال : خوارج کون تھے؟
    جواب: خوارج ایک مذہبی اور سیاسی گروہ تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں سامنے آیا۔ یہ گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جو حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان ثالثی کو قبول نہیں کرتے تھے اور انہوں نے خود کو اسلامی معاشرت سے الگ کر لیا تھا۔


    سوال : خوارج کے نظریات کیا تھے؟
    جواب: خوارج کے نظریات میں شدت پسندی، سختی سے اپنے عقائد پر عمل کرنا، اور ان لوگوں کو کافر قرار دینا شامل تھا جو ان کے نظریات سے اختلاف کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ صرف وہی مسلمان ہیں جو ان کی تشریحات پر عمل کرتے ہیں۔

    سوال : خوارج کی پیدائش کس موقع پر ہوئی؟
    جواب: خوارج کی پیدائش حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان صفین کی جنگ کے بعد ہوئی، جب دونوں فریقین نے ثالثی کا فیصلہ کیا۔ خوارج اس ثالثی سے ناراض ہوئے اور حضرت علی کے خلاف بغاوت کر دی۔

    سوال : خوارج کا انجام کیا ہوا؟
    جواب: خوارج کا انجام اسلامی تاریخ میں شکست و ریخت اور زوال کی صورت میں ہوا۔ حضرت علی نے ان کے خلاف نہروان کی جنگ میں کامیابی حاصل کی اور اس گروہ کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا، مگر ان کے باقیات بعد کے ادوار میں مختلف شکلوں میں موجود رہے۔

    سوال : خوارج کی شدت پسندی کا اسلامی تاریخ پر کیا اثر ہوا؟
    جواب: خوارج کی شدت پسندی اور فرقہ پرستی نے اسلامی تاریخ میں بہت سے فتنے اور انتشار کو جنم دیا۔ ان کے سخت نظریات نے اسلامی وحدت کو نقصان پہنچایا اور بعد میں آنے والے فرقوں اور انتہا پسند گروہوں کی بنیاد رکھی۔

    Post a Comment

    0 Comments