Namaz Aur iske Ahkaam/ نماز اور اس کے احکام
![]() |
Namaz Aur iske Ahkaam |
نماز پڑھنے والے نمازیوں کو Namaz Aur iske Ahkaam کیا ہیں اور ان کے مسئلہ اور مسائل کا جاننا بہت ہی ضروری ہے.تو آئیے قرآن اور سنت کی روشنی میں ہم Namaz Aur iske Ahkaam سے متعلق جانیں پڑھیں اور اس پر عمل کریں.
نماز پڑھنے کا وقت کیا ہے؟
اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دِن اور رات میں پانچ بار نماز پڑھنا فرض قرار دیا ہے.اور اسی طرح یہ بھی حکم دیا ہے کہ ہر نماز کو اُس کے وقت پر پڑھی جانی چاہیے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:بیشک نماز ایمان والوں پر اُس کے مقررہ وقت پر فرض کر دی گئی ہے.(النساء:103)
پانچ نمازوں کا شروعاتی وقت
جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں: ’’آپ نے ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد جبکہ زوال فئ کا سایہ جو تے کے تسمے کے برابر تھا اس وقت پڑھائی پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال فئ کا سایہ تسمے اور آدمی کے برابر ہوگیا پھر مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہوگیا پھر عشاء کی نماز سرخی غائب ہوجانے پر پڑھائی پھر جب فجر طلو ع ہوئی تو فجر کی نماز پڑھائی۔‘‘(صحیح نسائی:510)
مندرجہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ
ظہر: جب جوتے کے تسمہ کے برابر زوال کا سایہ پہنچ جائے
عصر: جب آدمی کے برابر سایہ پہنچ جائے
مغرب: سورج غروب ہونے پر
عشا: سرخی غائب ہونے پر
فجر: طلوعِ فجر سے پہلے
Read This Also: Be Namazi ka anjaam
پانچوں نمازوں کا اوّل و آخر وقت
’’بے شک ہر نماز کے لئے اول اور آخری وقت ہے ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت جب سورج ڈھل جائے اور آخری وقت جب نماز عصر کا وقت شروع ہو عصر کی نماز کا اول وقت وہی ہے جب یہ اپنے وقت میں داخل ہوجائے اور آخری وقت جب سورج زرد ہوجائے مغرب کی نماز کا اول وقت جب سورج غروب ہوجائے اور آخری جب سرخی غائب ہوجائے عشاء کا اول وقت جب سرخی غائب ہوجائے اور آخری وقت جب آدھی رات گزر جائے۔‘‘(صحیح ترمذی:129)
ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی(ﷺ) نے فرمایا کہ جبرائیل ؑ نے کعبہ کے پاس دو مرتبہ نماز میں میری امامت کی:
’’پس اُنہوں نے ظہر کی نماز پہلی مرتبہ جب زوال فئ کا سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہو تب پڑھائی ، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مساوی ہوگیا پھر مغرب کی اس وقت کہ جب سورج غروب ہوگیا اور روزہ دار نے روزہ کھول لیا پھر شفق (سرخی) ختم ہونے پر عشاء کی نماز پڑھائی، پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب پوہ پھوٹ پڑی اور صائم پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔اور دوسری مرتبہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا پھر عصر کی نماز جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوا پڑھائی، پھر مغرب کی نماز اس کے اول وقت میں پڑھائی، پھر عشاء کی نماز ثلث لیل کو پڑھی، پھر فجر کی نماز جب زمین روشن ہوگئی اس وقت پڑھی،پھر جبریل ؑ نے میری طرف توجہ کی اور بولے اے محمد! یہ اوقات تجھ سے پہلے انبیاء میں تھے اور (نماز) کا وقت ان دو اوقات کے درمیان میں ہے۔‘‘(صحیح ترمذی:127)
Read This Also: Namaz Ki ahmiyat hindi
سفر میں ظہر کی نماز ٹھنڈا کرکے پڑھنا
ابوذرغفاری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی کے ساتھ سفر پر تھے مؤذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی:
’’آپ نے فرمایا ٹھنڈا کرو۔ پھر موذن نے ارادہ کیا کہ اذان کہے تو آپ نے اسے پھر فرمایا کہ ٹھنڈا کرو یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا پھر آپ نے فرمایا: بے شک گرمی کی شدت جہنم کے سانس میں سے ہے، پس جب گرمی زیادہ ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔‘‘(صحیح بخاری:539)
عشاء کی نماز میں تاخیر
عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔ آپ نے اس کی ترغیب دلائی ہے۔ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ(ﷺ) نے فرمایا:
’’اگر مجھے اپنی اُمت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں عشاء کی نماز ایک تہائی یا آدھی رات تک مؤخر کرنے کا حکم کرتا۔‘‘(صحیح ترمذی:141)مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے جبکہ باقی نمازوں کا اپنے اول وقت میں پڑھنا افضل ہے جیسا کہ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے نبی سے افضل عمل کے متعلق پوچھا تو فرمایا: اول وقت میں نماز پڑھنا‘‘ (صحیح ابن خزیمہ:327)
عبداللہ بن عمر سے روایت ہے:
’’ایک رات ہم نبی کے پاس تھے اور آپ عشاء کی نماز کے لئے انتظار کررہے تھے پس وہ ہماری طرف اس وقت آئے جب رات آدھی یا اس سے کچھ زیادہ ہوچکی تھی نامعلوم آپ کس چیزمیں مصروف تھے یا کچھ اور کررہے تھے جب آپ نکلے تو فرمایا: کیا تم اس نماز کا انتظار کررہے ہو اگر یہ نہ ہو تاکہ یہ میری امت پربھاری ہوجائے گا تو میں ان کو اس وقت نماز پڑھاتا پھر آپ نے اذان کا حکم دیا اور نماز کھڑی کی۔‘‘(صحیح ابوداود:405)
عصرکا وقت معلوم کرنے کا طریقہ
پہلا طریقہ
ایک لکڑی لے کرزوال سے تھوڑی دیر پہلے سپاٹ زمین پر گاڑ دیں سایہ گھٹ رہا ہوگا،گھٹتے گھٹتے جب ایک جگہ رک جائے یہی زوال کا وقت ہے جو چند ثانیے تک رہتا ہے رکے ہوئے سایہ کی پیمائش کرلیں سایہ جب لکڑی کے برابر ہوجائے پیمائش کئے ہوئے فاصلے کو لکڑی کے برابر کے آئے ہوئے سایہ سے ملا کر نشان لگا لیں اب جب سایہ اس نشان پر پہنچے گا تو یہ ظہر کا آخری اور عصر کا اول وقت ہوگا اور ایک مثل ہوگا۔دوسرا طریقہ
لکڑی کو گاڑ دیا جائے اور زوال کا سایہ جب رُک جائے تو اس لکڑی کو نکال کر سایہ کی انتہا پر گاڑ دیا جائے جب سایہ بڑھنا شروع ہو اور لکڑی کے مثل ہوجائے بس یہی عصر کا اول وقت ہے۔سایہ پیمائش کرتے ہوئے کسی بھی صورت میں زوال کا سایہ مثل میں شمار نہیں ہوگا۔
نماز کے مکروہ اوقات اورمقامات
مکروہ اَوقات
عقبہ بن عامر جہنی سے روایت ہے کہ’’نبی ﷺ نے ہمیں تین اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا، جب سورج طلوع ہورہا ہو یہاں تک کہ بلندہوجائے۔جب سورج نصف آسمان پر ہویہاں تک کہ وہ ڈھل جائے (یعنی زوال کا وقت) اور جس وقت سورج غروب ہونا شروع ہوجائے۔‘‘(صحیح نسائی :546)
ابوہریرہ سے روایت ہے کہ
’’رسول اللہ(ﷺ) نے دو (وقتوں میں) نمازوں سے منع فرمایا فجر (کی نماز) کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور عصر (کی نماز کے) بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔‘‘(صحیح بخاری:588)
اسی طرح اگر نماز پڑھتے پڑھتے فجر اور عصر کے وقت سورج طلوع اور غروب ہوگیا اس کی باقی نمازدرست ہوگی۔
’’اے بنی عبدمناف! کسی کو بیت اللہ کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو خواہ وہ رات دن کی کسی گھڑی میں بھی (یہ عبادت) کررہا ہو۔‘‘(صحیح ترمذی:688)
’’رسول اللہ(ﷺ) نے دو (وقتوں میں) نمازوں سے منع فرمایا فجر (کی نماز) کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور عصر (کی نماز کے) بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔‘‘(صحیح بخاری:588)
لہٰذا مکروہ اوقات یہ ہوئے :اگر کسی کی صبح کی سنتیں رہ گئی ہوں صرف اس کے لئے اجازت ہے کہ وہ پڑھ لے جیساکہ قیس کہتے ہیں کہ نبی نے مجھے فجر کی نماز کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:اے ابو قیس ٹھہر جا! کیا تو دو نمازیں پڑھ رہا ہے۔ میں نے کہا یارسول اللہ صبح کی دو سنتیں مجھ سے رہ گئی تھیں آپ نے فرمایا: (تب اجازت ہے)(صحیح ترمذی:346)
• نماز فجر کے بعد سے جب تک سورج اچھی طرح نکل نہ آئے
• زوال کے وقت
• عصر کی نماز کے بعد سے سورج جب تک غروب نہ ہوجائے
اسی طرح اگر نماز پڑھتے پڑھتے فجر اور عصر کے وقت سورج طلوع اور غروب ہوگیا اس کی باقی نمازدرست ہوگی۔
ابوہریرہ سے روایت ہے آپ (ﷺ)نے فرمایا:اسی طرح مسجد حرام ان ممنوعہ اوقات سے مستثنیٰ ہے اس میں دن رات کی کسی بھی گھڑی میں نمازاور کوئی دوسری عبادت کی جاسکتی ہے۔ جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ نبی(ﷺ) نے فرمایا:
’’جس نے عصر کی نماز میں سے سورج غروب ہونے سے ایک رکعت بھی پالی اس نے نماز پالی اور جس نے فجر کی نما زمیں سے سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک رکعت بھی پالی اس نے نماز پالی۔‘‘(صحیح مسلم:609)
’’اے بنی عبدمناف! کسی کو بیت اللہ کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو خواہ وہ رات دن کی کسی گھڑی میں بھی (یہ عبادت) کررہا ہو۔‘‘(صحیح ترمذی:688)
مکروہ مقامات
قبرستان اور حمام
قبرستان اور حمام میں نبی نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:’’حمام اور قبرستان کے علاوہ ساری زمین پرسجدہ کیا جاسکتا ہے۔‘‘(صحیح ابوداود:463)
اونٹوں کے باڑے میں
اونٹوں کے باڑ ا میں نماز پڑھنا منع ہے۔براء بن عازب کہتے ہیں کہ نبی سے اونٹوں کے باڑا میں نما زپڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ (ﷺ)نے فرمایا: ’’اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۔‘‘(صحیح ابوداود:464)
Read This Also: Saheeh Namaz e Nabvi ﷺ P:1 hindi
پانچ نمازوں میں فرض و نفل رکعات کی تعداد
فرائض
ہر دن کی پانچ نمازوں کے فرائض کی تعداد ۱۷ ہے جو صحیح روایات اور اُمت کے عملی تواتر سے ثابت ہیں۔
سنت مؤکدہ
اسی طرح نمازوں کے فرائض سے پہلے یا بعد کے نوافل جو آپ کی عادت اور معمول تھا کی تعداد زیادہ سے زیادہ ۱۲ ہے جس کی تاکید و ترغیب بھی آپ سے منقول ہے۔ اُمّ حبیبہ فرماتی ہیں: سمعت رسول اﷲ ﷺ یقول:’’میں نے رسول اللہﷺ سے سنا جو شخص دن اور رات میں ۱۲رکعات پڑھ لے، ان کی وجہ سے اس کے لئے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے‘‘(صحیح مسلم:728)
فجر :-تعداد رکعات : 4 ( 2 نفل+ 2 فرض)
نوافل
اُمّ المومنین حفصہ فرماتی ہیں کہ:’’جب مؤذن اذان کہہ لیتا اور صبح صادق شروع ہوجاتی تو آپ (ﷺ) جماعت کھڑی ہونے سے پہلے مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے۔‘‘(صحیح مسلم:723)
فرائض
ابو برزہ اسلمی سے روایت ہے کہ آپ صبح کی نماز پڑھاتے:
’’ اورآپ دو رکعتوں میں یا کسی ایک میں ساٹھ سے سو تک آیات تلاوت فرماتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری:771)
آپ ﷺ سے فجر کے فرائض سے پہلے دو رکعت نماز پرمداومت ثابت ہے جیساکہ عائشہ فرماتی ہیں:
’’بے شک نبی نوافل میں سے سب سے زیادہ اہتمام صبح کی سنتوں کا کرتے تھے۔‘‘(صحیح مسلم:724)
ظہر :-زیادہ سے زیادہ رکعات :12 (2یا 4 نفل+4 فرض+2 یا 4 نفل)
نوافل
عائشہ فرماتی ہیں کہ’’آپ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات نوافل ادا کرتے اور لوگوں کو نماز پڑھانے کے بعد گھر واپس آکر دو رکعات پڑھتے تھے۔‘‘(صحیح مسلم:730)ابن عمر فرماتے ہیں:صلیت مع النبيﷺ سجدتین قبل الظہر السجدتین بعد الظہر(صحیح بخاری:72)’’میں نے نبی ﷺکے ساتھ دو رکعات ظہر سے پہلے اور دو ظہر کی نماز کے بعد پڑھے۔‘‘اُمّ حبیبہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:’’جس شخص نے ظہر سے قبل اور بعد چار چار رکعات نوافل کا اہتمام کیا، اس پر جہنم کی آگ حرام کردی گئی ہے۔‘‘(صحیح ابوداود:1130)مذکورہ بالا روایات سے ظہرکی سنتوں کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ۱۶ ہیں اور ان میں کم از کم ۴ رکعات نوافل موکدہ ہیں جیسا کہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:’’نبی ظہر سے پہلے کی چار رکعات اور فجر سے پہلے کی دو رکعات کبھی نہ چھوڑتے۔‘‘(صحیح بخاری:1182)
فرائض
ابوقتادہ سے روایت ہے کہ’’بے شک نبی(ﷺ) ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے اور آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھتے…الخ‘‘(صحیح بخاری:776)
عصر:- تعداد رکعات: 8 (4 نفل +4 فرض)
نوافل
علی(رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ
’’نبی عصر سے پہلے چار رکعات نوافل ادا کرتے تھے۔‘‘( صحیح ترمذی:353)
ابوسعیدخدری سے روایت ہے، فرماتے ہیں:
’’ ہم رسول اللہ کے ظہر اور عصر کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے… عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس طرح کرتے کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے قیام کے برابر ہوتا اور آخری دو رکعتوں کا قیام عصر کی پہلی دو رکعتوں سے نصف ہوتاتھاـ۔‘‘( مسلم:452)
عصر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعات نوافل غیر موکدہ ہیں،کیونکہ اس پر آپ کا دوام ثابت نہیں۔البتہ آپ نے ان نوافل کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا:
’’جس شخص نے عصر سے قبل چار رکعات نوافل ادا کئے اللہ اس پر رحم فرمائے۔‘‘(صحیح ابوداود:1132)
ظہر اور عصر کے پہلے چار چار نوافل کو دو دو رکعات کرکے پڑھنا بھی نبی سے ثابت ہے جیسا کہ علی فرماتے ہیں:
’’اور نبی کریم(ﷺ) نے ظہر سے پہلے چار رکعات نوافل ادا کئے اور دو بعد میں اسی طرح چار رکعات نوافل عصر کی نماز سے پہلے ادا کئے اور آپ نے ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا۔‘‘ (صحیح ترمذی:489)
مغرب:- تعداد رکعات: 5 (3 فرض+ 2 نفل)
فرائض
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرنے (سفر میں) مغرب اور عشاء اکٹھی کیں:
’’ اور انہو ں نے مغرب کی تین رکعات اور عشاء کی دو رکعات پڑھائیں اور فرمایا کہ اس جگہ رسول اللہنے اسی طرح کیا تھا۔‘‘(صحیح نسائی :470)
نوافل:
عائشہ نبی کی فرض نمازوں سے پہلے اور بعد کے نوافل بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ:
’’اور وہ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعت نماز نوافل ادا کرتے۔‘‘(صحیح مسلم:730)
ملحوظہ: مغرب کی نما زسے پہلے دو رکعت نفل بھی آپ سے ثابت ہیں۔ عبداللہ المزنی سے روایت ہے کہ:’رسول اللہﷺ نے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت نفل ادا کیے۔‘‘(ابن حبان:۱۵۸۶)لیکن یہ دو رکعت موکدہ نہیں ہیں۔ عبداللہ بن المزنی سے ہی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:’’مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھو تین دفعہ فرمایا اور تیسری مرتبہ فرمایا جو چاہے۔ تاکہ کہیں لوگ اسے موکدہ نہ سمجھ لیں۔‘‘(صحیح بخاری:1183)
عشاء :- تعداد رکعات کم از کم ایک وتر: 7 (4فرض +2 نفل+۱ یا 3وتر)
فرائض
عمر نے سعد سے اہل کوفہ کی شکایت کے بارے میں پوچھا کہ آپ نماز اچھی طرح نہیں پڑھاتے تو آپ نے جواب دیا:’’اللہ کی قسم میں انہیں نبی کی نماز کی طرح کی نماز پڑھاتا تھا اور اس سے بالکل روگردانی نہ کرتا تھا۔میں عشاء کی نماز جب پڑھاتا تو پہلی دورکعتوں کو لمبا کرتا اور آخری دو رکعتوں کو ہلکا۔ عمر فرمانے لگے: اے ابو اسحاق تمہارے بارے میرا یہی گمان تھا۔‘‘(صحیح بخاری:755)
Read This Also: Saheeh Namaz e Nabvi ﷺ P:2 hindi
جاری ہے ۔۔۔۔۔
عشاء کے فرضوں کے پہلے اور بعد نوافل:
عشاء کے فرضوں کے بعد نبی سے 2 اور 4 نوافل پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔نوافل: عبداللہ بن عمر کہتے ہیںنبی کے عام حکم کہ
’’میں نے نبی کے ساتھ ۔ ۔ ۔ عشاء کے بعد دو رکعات نماز پڑھی۔‘‘(صحیح بُخاری:1172)
ابن عباس فرماتے ہیں:ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ کے گھر میں گزاری:
’’آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی پھر گھر آئے اور چار رکعات نوافل ادا کئے اور سوگئے۔‘‘ (صحیح بخاری:697)
’’آپ نے فرمایا ہر دو آذانوں (اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ہے ہر دو آذانوں کے درمیان نماز ہے تیسری دفعہ آپ نے فرمایا جو چاہے۔‘‘(صحیح بخاری:627)وتر کے بعد دو سنتیں پڑھنا آپ سے ثابت ہے جیسا کہ اُم سلمہ سے روایت ہے کہ:
ثابت ہوتا ہے کہ ہر نماز کی امامت سے پہلے دو رکعت نماز کی ترغیب ہے۔ لہٰذا اس مشروعیت کے مطابق عشاء کی نماز سے پہلے بھی دو رکعت نوافل ادا کئے جاسکتے ہیں۔
’’آپ وتر کے بعد دو رکعت نوافل ادا کرتے تھے۔‘‘(صحیح ترمذی:392)
وتر:آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعات کے ساتھ وتر ثابت ہے۔
ایوب انصاری سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ وتر ادا کرنا پسند کرے وہ پانچ پڑھ لے اور جو تین وتر پڑھنا پسند کرے وہ تین پڑھ لے اور جو ایک رکعت وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایک پڑھ لے۔‘‘ (صحیح ابوداود:1260)
وتر پڑھنے کا طریقہ
تین وتر پڑھنے کا طریقہ:
تین وتر پڑھنے کے لئے دو نفل پڑھ کر سلام پھیرا جائے اور پھر ایک وتر الگ پڑھ لیا جائے۔ عائشہ سے روایت ہے : کان یوتر برکعۃ وکان یتکلم بین الرکعتین والرکعۃ ’’آپ ایک رکعت کے ساتھ وتر بناتے جبکہ دو رکعت اور ایک کے درمیان کلام کرتے۔ مزید ابن عمر کے متعلق ہے کہ: ’’
’’انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیر دیا پھر کہا کہ فلاں کی اونٹنی کو میرے پاس لے آؤ پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت کے ساتھ وتر بنایا۔‘‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ 2,92,91)
پانچ وتر پڑھنے کا طریقہ
پانچ وتر کا طریقہ یہ ہے کہ صرف آخری رکعت میں بیٹھ کر سلام پھیرا جائے۔ عائشہ فرماتی ہیں: کان رسول اﷲ! یصلي من اللیل ثلاث عشرۃ رکعۃ یوتر من ذلک بخمس لا یجلس فی شیئ إلا فی آخرہا(صحیح مسلم:737)
سات وتر کے لئے ساتویں پر سلام پھیرنا۔ عائشہ سے ہی روایت ہے۔ اُم سلمہ فرماتی ہیں کہ:
’’نبی سات یا پانچ وتر پڑھتے ان میں سلام اور کلام کے ساتھ فاصلہ نہ کرتے۔‘‘(صحیح ابن ماجہ :980)
نو وتر کے لئے آٹھویں رکعت میں تشہد بیٹھا جائے اور نویں رکعت پر سلام پھیرا جائے۔ عائشہ نبی کے وتر کے بارے میں فرماتی ہیں:
’’آپ نو رکعت پڑھتے اور آٹھویں رکعت پر تشہد بیٹھتے …پھر کھڑے ہوکر نویں رکعت پڑھتے اور سلام پھیرتے۔‘‘ (صحیح مسلم:746)
قنوتِ وتر
(آخری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے۔
دلیل:ابی بن کعب سے روایت ہے:
’’بے شک رسول اللہ وتر پڑھتے تو رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔‘‘(صحیح ابن ماجہ:970)
(اَللّٰھُمَّ اھْدِنِيْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِيْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِيْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِيْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِيْ شَرَّ مَاقَضَیْتَ فَإنَّکَ تَقْضِيْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ إنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ)(صحیح ترمذی:383 ،بیہقی :2,209)
’’اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے ساتھ جن کو تو نے ہدایت دی، مجھے عافیت دے ان لوگوں کے ساتھ جن کو تو نے عافیت دی، مجھ کو دوست بنا ان لوگوں کے ساتھ جن کو تو نے دوست بنایا۔ جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما اور مجھے اس چیز کے شر سے بچا جو تو نے مقدر کردی ہے، اس لئے کہ تو حکم کرتا ہے، تجھ پر کوئی حکم نہیں چلا سکتا ۔جس کو تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا۔ اے ہمارے رب! تو برکت والا ہے، بلند و بالا ہے۔‘‘
نماز کے چند ضروری مسائل
کپڑوں کا پاک ہونا
نماز پڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ نمازی کے کپڑے پاک ہوں۔معاویہ نے اُم حبیبہ سے پوچھا:’’کیا رسول اللہ1 جن کپڑوں میں مجامعت کرتے انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں جب اس پر گندگی نہ دیکھتے۔‘‘(صحیح ابوداود:352)اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کرو اور ناپاکی کو چھوڑ دو۔‘‘(المدثر:4,5)
استقبالِ قبلہ
نمازی کے لئے یہ بات بھی ضروری ہے کہ وہ جب نماز کا ارادہ کرے تو قبلہ رخ ہوکر کھڑا ہو۔
آپ نے ایک آدمی کو نماز درست کرواتے ہوئے فرمایا:
’’جب تم نماز کا قصد کرو تو اچھی طرح وضو کرلو پھر قبلہ کی طرف منہ کرکے تکبیر کہو۔‘‘(صحیح بخاری:6251)جس وقت اس عمل کو کرنا دشوار ہو وہاں عذر کے باعث اجازت ہے کہ کسی طرف بھی منہ کیا جاسکتا ہے مثلاً جنگل ، صحرا یا ایسی جگہ جہاں قبلہ کی سمت معلوم نہ ہوسکے اسی طرح جنگ کے دوران اور جب قبلہ رخ ہونا ممکن ہی نہ ہو۔جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:’’اور تم کو خوف ہو تو پیادہ یا سوار (ہرصورت میں نماز ادا کرو)‘‘(البقرہ:239)اس سے معلوم ہوا کہ بھاگتے ہوئے یا لڑتے ہوئے انسان کا رخ کسی طرف بھی ہوسکتا لہٰذا وہ کسی سمت میں نماز ادا کرسکتا ہے اور اسی طرح عام حالات میں سواری پر نفل نماز ادا کرنی ہو تو سواری کا رخ ایک دفعہ قبلہ رخ کرلینا چاہئے اب نماز کے دوران سواری کا رخ بدل بھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
انس بن مالک سے روایت ہے :
’’آپ جب سفر میں ہوتے اور نفل نماز کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف کرلیتے اور تکبیر کہتے اورپھر نماز پڑھتے اور سواری کا رخ جدھر ہوتا سو ہوتا۔‘‘ (صحیح ابوداو:1084)لیکن یہ یاد رہے کہ سواری پر صرف نفل نماز ہوسکتی ہے آپ سے سواری پر فرض نماز ثابت نہیں۔جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ :’’مشرق کی طرف سواری پر نماز پڑھتے اور جب فرض نماز کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر جاتے اور قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوجاتے۔‘‘(صحیح بخاری:1099)
اقتداے امام
امام کی اقتدا فرض ہے امام کی اقتداء نہ کرنے سے نماز باطل ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اقتداء امام کی تاکیداور اس کے خلاف پر وعید کی بہت سے روایات منقول ہیں، جن میں چند ایک یہ ہیں:
١ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:’’امام تو بنایا ہی اس لئے جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے جب وہ تکبیر کہے پھرتم تکبیر کہو اور اس وقت تک تکبیر نہ کہو جب وہ تکبیر نہ کہہ لے اور جب وہ رکوع کرتے تب تم رکوع کرو اور اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک وہ رکوع نہ کرلے اور جب وہ سجدہ کرے تب سجدہ کرو اور اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب وہ سجدہ نہ کرلے… الخ‘‘ (صحیح ابوداود:563)٢ ابوہریرہ سے ہی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:’’تم میں سے کسی کو اس بات کا ڈر نہیں کہ جب وہ امام سے پہلے سراٹھائے تو اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر یا اس کی صورت گدھے کی صورت بنا دے؟۔‘‘(صحیح بخاری:691)صحابہ کرام امام کی اقتدا کا پورا پورا خیال رکھتے تھے۔ براء بن عازب بیان فرماتے ہیں’’رسول اللہ جب (سمع اﷲ لمن حمدہ) کہتے تو ہم سے ایک بھی شخص اپنی کمر تک نہ جب تک وہ سجدے میں نہ چلے جاتے پھر ہم اس کے بعد سجدہ کیلئے جھکتے۔‘‘(صحیح بخاری:690)
Read This Also: Tauheed aur shirk P:1
تعدیل ارکان
نماز کے اَرکان کو صحیح طریقے سے بجا لانانماز کی قبولیت کے لئے شرط ہے۔ آپ نے فرمایا: (صلوا کما رأیتموني أصلي)(صحیح بخاری:631)
’’نماز ویسے پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔‘‘
ابوہریرہ سے روایت ہے: ایک شخص مسجدمیں داخل ہوا جبکہ آپ مسجد کے ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے نماز پڑھی اور آکر آپ پر سلام بھیجا۔ آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: لوٹ جا اور نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی پس وہ لوٹا اور نماز پڑھ کر آیا اور آپ پر سلام بھیجا آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا لوٹ جا (دوبارہ) نماز پڑھ تمہاری نماز نہیں ہوئی اس کے بعد اس نے کہا یارسول اللہ مجھے سکھا دیں (کہ میں کیسے نماز پڑھوں) فرمایا:
’’جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اچھی طرح وضو کرلو پھر قبلہ کی طرف منہ کرو اور اللہ اکبر کہو پھر قرآن سے جومیسر ہو پڑھ پھر رکوع کر یہاں تک کہ تو اچھی طرح رکوع کرے پھراٹھ حتیٰ کہ تو کھڑے ہوتے ہوئے برابر ہوجائے پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اچھی طرح سجدہ کرے پھر سر اٹھا یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جائے پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اچھی طرح سجدہ کرلے پھر سر اٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے پھر اسی طرح تمام نماز میں کرتا رہ۔‘‘ (صحیح بخاری:6251)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ نبی نے مسیء الصلاۃ کو نماز میں تعدیل ارکان کی تاکید فرمائی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آدمی کی نماز میں ایک خرابی یہ بھی تھی ۔
حذیفہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ رکوع و سجود صحیح طور پر نہ کررہا تھا۔ اس کے نماز مکمل کرنے کے بعد آپ نے فرمایا:لومت مت علی غیر سنۃ محمد ﷺ (صحیح بخاری:389)’’اگر تو (اسی حالت میں) مرگیا تو محمد کی سنت کے علاوہ پر مرے گا۔ ‘‘
عورت کا ننگے سر نماز پڑھنا
یوں تو عورت کا سارا جسم ہی ستر ہے ،کیونکہ اکثر طور پر سر کا حصہ ننگا رکھنے میں سستی ہوجاتی ہے اس لئے اس کے بارے میں تاکید آئی ہے۔ عائشہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا۔‘‘ (صحیح ابوداود:596)
مرد کی ننگے سر نماز
مرد کے ننگے سر نماز پڑھنے کا موضوع علماء کے درمیان مختلف آراء کا حامل ہے، اور اس بارے میں کچھ روایات اور احادیث سے رہنمائی ملتی ہے۔
1. ننگے سر نماز پڑھنے کے متعلق کوئی ممانعت نہیںنبی کریم ﷺ کے زمانے میں عربوں کا عمومی لباس سر پر عمامہ باندھنا تھا، لیکن نماز کے لیے خاص طور پر سر ڈھانپنے یا نہ ڈھانپنے کے متعلق واضح ہدایات نہیں ملتیں۔ زیادہ تر احادیث میں نماز کے لباس کے بارے میں عمومی شرائط بیان کی گئی ہیں، جن میں بدن کو ڈھانپنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے سر ڈھانپنا نماز کی قبولیت کے لیے ضروری شرط نہیں ہے۔
2. لباس کی اہمیت حدیث میں
نماز کے لیے اچھا اور پاکیزہ لباس پہننے کی ترغیب حدیث میں دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَلْبَسْ ثَوْبَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ مَنْ تُزَيِّنَ لَهُ"(ابو داؤد)ترجمہ: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے دونوں کپڑے (اچھے) پہن لے کیونکہ اللہ اس کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کے سامنے زینت اختیار کی جائے۔
3. فقہی آراء
فقہاء نے اس بارے میں کہا ہے کہ سر ڈھانپنا یا ننگے سر نماز پڑھنا حالات اور مقامات پر منحصر ہے۔ امام ابو حنیفہ اور دیگر فقہاء کے نزدیک نماز میں مرد کے لیے بہتر ہے کہ سر ڈھانپ کر نماز پڑھے تاکہ زیادہ ادب اور وقار کا اظہار ہو۔ لیکن اگر کوئی ننگے سر بھی نماز پڑھ لے تو نماز صحیح ہے اور قبول ہوگی۔
4. خلاصہ
خلاصہ یہ ہے کہ ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے، لیکن سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا زیادہ مستحب اور افضل ہے۔ اس کا تعلق زیادہ تر اسلامی تہذیب اور ادب سے ہے نہ کہ نماز کی قبولیت کی شرط سے۔
کپڑا یا بال سمیٹنا
’’میں پابند کیا گیا ہوں کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور (نماز میں) کپڑا اور بالوں کو نہ لپیٹوں ۔‘‘(صحیح مسلم:69)
- اسی طرح عبداللہ بن عباس نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا اور وہ جوڑا کئے ہوئے تھا۔ آپ نے وہ کھول دیا جب نماز کے بعد وہ آیا اور عبداللہ بن عباس سے پوچھنے لگا کہ آپ نے کیوں ایسا کیا ۔ جس پر آپ نے کہا :
- ’’میں نے نبی سے سنا ہے کہ اس شخص کی مثال ایسے ہی ہے جیسے وہ ستر کھولے ہوئے ہے۔‘‘ (صحیح مسلم :692)
- چادر کی اس طرح بکل مارنا کہ ہاتھوں کو حرکت دینا محال ہوجائے اس سے نبی نے منع فرمایا ہے۔ ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ
- ’’ نبی ﷺ نے سختی سے چادر کی بکل مارنے سے منع فرمایا۔‘‘
- اسی طرح نماز میں سدل اور منہ پر کپڑا ڈالنے کی ممانعت ہے۔ کپڑے کے دونوں سروں کو اپنے سامنے لٹکا لینے کو سدل کہتے ہیں۔ (صحیح بخاری:367)
- ابوہریرہ سے روایت ہے :’’نبی نے نما زمیں سدل سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ آدمی اپنا منہ ڈھانپے۔‘‘(صحیح ابوداود:597)
جوتوں سمیت نماز
- شداد بن اوس سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
- ’’یہود کی مخالفت کرو پس بے شک وہ جوتوں اور موزوں میں نما زنہیں پڑھتے۔‘‘(صحیح ابوداود:607)
- ابوسلمہ نے انس سے دریافت کیا کہ
- ’’کیا نبی اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ، کہنے لگے ہاں۔‘‘(صحیح بخاری:386)
- لیکن یاد رہے کہ جوتا اگر بالکل صاف ہو یعنی اس پر گندگی نہ لگی ہو تب ہی اس میں نماز ادا ہوسکتی وگرنہ جوتے پہن کر نمازدرست نہیں۔
- ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ صحابہ کرام کو نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ نے اپنے جوتے اتار دیئے جب لوگوں نے دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے نماز کے بعد آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے مجبور کیا کہ تم اپنے جوتے اتارو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے دیکھا کہ آپ جوتے اتار رہے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے آپ نے فرمایا: مجھے تو جبریل نے خبر دی کہ تمہارے جوتوں کے نیچے گندگی ہے اور آپ نے فرمایا:
- ’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو پہلے اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان پرگندگی وغیرہ لگی ہو تو اس کو (زمین پر) رگڑے اور ان میں نماز ادا کرے۔‘‘(صحیح ابوداود:605)
- لہٰذا جوتا اگر گندگی سے پاک ہو تو ان میں نماز پڑھنادرست ہے۔ تاہم آج کل مسجدوں میں قالین اور صفوں کی صفائی کے پیش نظر جوتے اتارکر نماز پڑھ لینی چاہئے آپ سے جوتے اتار کر نماز پڑھنا بھی ثابت ہے۔
- عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ
- ’’ میں نے رسول اللہ کو ننگے پاؤں اور جوتے سمیت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔(صحیح ابوداود :608)
نماز میں آگے سے گزرنے والے کو نمازی روکے
نمازی کے آگے سے اگر کوئی گزر رہا ہو تو نمازی کوحکم ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اسے روکے بلکہ اگر زبردستی کرنی پڑے تب بھی کوئی حرج نہیں ۔
ابو سعید سے روایت ہے کہ میں نے نبی سے سناکہ انہوں نے فرمایا:
’’اگر کوئی نمازی کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے تو نمازی کو چاہئے کہ وہ اسے روکے اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘(صحیح بخاری:509)
نماز میں سلام کا جواب
عبداللہ کہتے ہیں کہ
’’آپ نماز میں ہوتے اور ہم آپ پر سلام بھیجتے تو آپ پر سلام بھیجتا تو آپ جواب دے دیتے جب ہم نجاشی(حبشہ )سے واپس آئے تو آپ کو سلام کیا آپ نے ہمیںجواب نہ دیا (بعد میں) آپ نے فرمایا کہ میں نماز میں مشغول تھا۔‘‘(صحیح بخاری:1199)
صہیب سے روایت ہے کہ میں نبی کے پاس سے گزرا آپ نماز اداکررہے تھے میں نے سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب انگلی کے اشارے سے دیا۔ (صحیح ابوادود:818)
غسل ِواجب میں وضو شامل ہے
غسل ِواجب کے بعد دوبارہ وضو کرنا ضروری نہیں کیونکہ وضو اسی غسل میں شامل ہے یا اگر نواقض وضو میں سے کوئی عارضہ لاحق ہوجائے ، مثلاً شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانا وغیرہ تو غسل کے بعد نماز کے لئے وضو کرنا ضروری ہوگا۔میمونہ آپ کے غسل جنابت کا طریقہ یوں بیان کرتی ہیں:
’’پس آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دو یا تین مرتبہ دھوئے پھر اپنا (دایاں) ہاتھ برتن میں ڈالا اور اس کے ساتھ اپنی شرمگاہ پر پانی انڈیلہ اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا پھر بایاں ہاتھ زمین پرمارا اور اسے اچھی طرح رگڑا پھر (سر کے مسح تک) نماز کے وضو کی طرح وضو کیا پھر تین چلو پانی بھر کر سر پر ڈالے پھرسارے بدن کو (پانی ڈال کر) دھویا پھر اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کو دھویا۔‘‘(صحیح مسلم:317)
عائشہ فرماتی ہیں:
’’آپ غسل کرتے اور دورکعتیں فجر کی دو رکعتیں اور فرض پڑھتے اور غسل کے بعد نیا وضو نہ کرتے تھے۔‘‘(صحیح ابوداود:225)
غسل کرتے ہوئے سر کو پہلے دائیں اور پھر بائیں سے دھونا مسنون ہے۔ عائشہ فرماتی ہیں:
’’پس آپ سر کے دائیں حصے سے (پانی ڈالنا) شروع کرتے پھر بائیں طرف۔‘‘(صحیح بخاری:258)
عورت کے لئے ضروری نہیںکہ وہ اپنی مینڈھیاں کھولے بلکہ اگر وہ گندھے ہوئے بالوں پرہی پانی انڈیل لیتی ہے تو اس کی اجازت ہے۔ اُمّ سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی سے پوچھا کہ میں سر پر سختی سے مینڈھیاں باندھنے والی عورت ہوں توکیا غسل جنابت کے لئے میں اس کو کھول لیا کروں۔ آپ نے فرمایا:
’’نہیں نہیں یہی کافی ہے کہ تو تین لپ پانی کے اپنے سر پر ڈال لے پھراپنے اوپر پانی بہالے پس تو پاک ہوجائے گی۔‘‘(صحیح مسلم:330)
Download Mukhtasar Masnoon Namaz Pdf file hindi
Conclusion :
نماز مسلمانوں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو نہ صرف انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے بلکہ اسے نظم و ضبط، پاکیزگی، اور نیکی کے راستے پر گامزن رکھتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ Namaz Aur iske Ahkaam کو سمجھ کر اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے.
نماز دینِ اسلام کا بنیادی رکن اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ یہ عبادت نہ صرف بندے کے لیے روحانی سکون اور برکت کا باعث بنتی ہے بلکہ اسے برے اعمال اور گناہوں سے دور رکھتی ہے۔
نماز کے لیے کچھ لازمی شرائط ہیں، جیسے طہارت، ستر پوشی، اور وقت کی پابندی۔ نماز میں خشوع و خضوع اور اخلاص کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ وضو اور پاکیزگی نماز کی صحت کے لیے ضروری ہیں، اور اگر پانی میسر نہ ہو تو تیمم کی سہولت دی گئی ہے۔
نماز ہر حال میں فرض ہے، چاہے حالتِ بیماری ہو یا سفر۔ اسلام نے ان حالتوں کے لیے آسانی فراہم کی ہے، مثلاً قصر نماز اور بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھنے کی اجازت۔ نماز کے دوران پیش آنے والے مسائل جیسے سجدہ سہو، رکعتوں میں شک، یا وضو ٹوٹنے کے احکام بھی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں تاکہ ہر حالت میں نماز کو درست طریقے سے ادا کیا جا سکے۔
نماز کو وقت پر ادا کرنا، بچوں کو اس کی تعلیم دینا، اور زندگی کے ہر مرحلے میں اس کی پابندی کرنا مسلمان کی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ عبادت نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی کو بھی سنوارتی ہے
Note: اگر پوسٹ لکھنے میں کسی طرح کی کوئی غلطی ہوئی ہو تو برائے مہربانی اصلاح اور اطلاع کریں. جزاک اللّہ خیراً
👍🏽 ✍🏻 📩 📤 🔔
Like comment save share subscribe
FAQs:
سوال 1: نماز کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: نماز دینِ اسلام کا دوسرا رکن اور ایمان کے بعد سب سے اہم عبادت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کا ذریعہ ہے اور ہر مسلمان پر دن میں پانچ وقت فرض ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا:
"بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔" (سورۃ العنکبوت: 45)
سوال 2: نماز کے لیے وضو کیوں ضروری ہے؟
جواب: وضو جسمانی اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ نماز کے لیے پاک صاف ہونا شرط ہے اور وضو کے ذریعے انسان اللہ کے حضور صاف دل اور جسم کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔
سوال 3: کیا نماز کے بغیر کوئی نیک عمل قبول ہوگا؟
جواب: حدیث میں آیا ہے: "قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر وہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی قبول کیے جائیں گے۔"
نماز تمام اعمال کی قبولیت کی شرط ہے۔
سوال 4: کیا عورتوں پر نماز جمعہ واجب ہے؟
جواب: عورتوں پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے، لیکن اگر وہ مسجد جا کر پڑھیں تو ان کی نماز ہو جائے گی۔ گھر میں ظہر کی نماز پڑھنا ان کے لیے کافی ہے۔
سوال 5: قصر نماز کب اور کیسے پڑھی جاتی ہے؟
جواب: سفر کی حالت میں قصر نماز پڑھی جاتی ہے، جب انسان 48 میل یا اس سے زیادہ کا سفر کرے۔ اس میں چار رکعت والی فرض نمازیں (ظہر، عصر، عشاء) دو رکعت کر دی جاتی ہیں۔
سوال 6: اگر کوئی شخص نماز میں بھول جائے تو کیا کرے؟
جواب: اگر نماز میں کوئی غلطی ہو جائے، جیسے کوئی فرض یا واجب چھوٹ جائے، تو سجدہ سہو کیا جاتا ہے۔ نماز کے آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے دو اضافی سجدے کیے جاتے ہیں۔
سوال 7: فجر کی نماز کا وقت کب تک ہوتا ہے؟
جواب: فجر کی نماز کا وقت صبح صادق سے شروع ہو کر سورج نکلنے تک ہوتا ہے۔ سورج نکلنے کے بعد فجر کی قضا نماز پڑھی جاتی ہے۔
سوال 8: کیا بیمار شخص نماز چھوڑ سکتا ہے؟
جواب: نماز کسی بھی حالت میں معاف نہیں ہے۔ بیمار شخص اپنے حالات کے مطابق نماز ادا کرے، اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر، اور اگر بیٹھ کر بھی ممکن نہ ہو تو لیٹ کر اشاروں سے نماز ادا کرے۔
سوال 9: نماز کے دوران ہنسنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: نماز کے دوران ہنسنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے اور اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
سوال 10: کیا نماز کے دوران کپڑوں کا مخصوص رنگ ہونا ضروری ہے؟
جواب: نماز کے لیے کپڑوں کا رنگ مخصوص نہیں، لیکن کپڑے پاک اور ستر پوش ہونے چاہییں۔
یہ چند سوالات اور جوابات ہیں جو نماز اور اس کے احکام کو واضح کرتے ہیں۔ اگر مزید سوال ہوں تو ضرور بتائیں۔
سوال 11: کیا غیر مسلم کے لیے نماز پڑھنا جائز ہے؟
جواب: نماز ایک مسلمان کی عبادت ہے، اور غیر مسلم کے لیے سب سے پہلے اسلام قبول کرنا ضروری ہے۔ ایمان لانے کے بعد ہی نماز فرض ہوتی ہے۔
سوال 12: اگر نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: اگر نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو فوراً نماز توڑ دیں، دوبارہ وضو کریں اور نماز کو نئے سرے سے شروع کریں۔
سوال 13: کیا ایک امام کی اقتداء میں مختلف مسلک کے افراد نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، مختلف مسلک کے افراد ایک امام کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتے ہیں، بشرطیکہ امام کے نماز پڑھانے کا طریقہ شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
سوال 14: کیا قرآن کی سورہ کو بھول جانے سے نماز باطل ہو جاتی ہے؟
جواب: اگر کوئی سورہ بھول جائے اور دوسری سورہ پڑھ لے تو نماز باطل نہیں ہوتی، لیکن وہ سورہ یاد کر کے آئندہ درست پڑھنے کی کوشش کرے۔
سوال 15: اگر عشاء کی نماز قضا ہو جائے تو کب پڑھنی چاہیے؟
جواب: عشاء کی قضا نماز فجر سے پہلے کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔ اگر فجر کا وقت ہو جائے تو عشاء کی قضا فجر کے بعد ادا کی جا سکتی ہے۔
سوال 16: کیا نماز میں موبائل کی گھنٹی بجنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
جواب: نماز نہیں ٹوٹتی، لیکن نماز کے ادب کے خلاف ہے۔ اگر ممکن ہو تو گھنٹی بند کرنی چاہیے، اور بہتر ہے کہ نماز سے پہلے موبائل کو خاموش کر لیا جائے۔
سوال 17: کیا بچوں کو نماز کی عادت ڈالنی ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں، حدیث میں آیا ہے:
"اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور دس سال کی عمر میں اگر نہ پڑھیں تو سختی کرو۔" یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو نماز کی اہمیت سکھائیں۔
سوال 18: نماز میں بھول جانے کی صورت میں رکعتیں کیسے یاد کی جائیں؟
جواب: اگر رکعتوں کی تعداد میں شک ہو تو یقین والے پر عمل کریں، یعنی کم رکعت کو شمار کریں، اور آخر میں سجدہ سہو کر لیں۔
سوال 19: کیا تیمم سے نماز ہو سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، اگر پانی موجود نہ ہو یا بیماری کی وجہ سے وضو ممکن نہ ہو تو تیمم کر کے نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
سوال 20: کیا سفر کے دوران فجر کی سنتیں معاف ہیں؟
جواب: سفر کے دوران فرض نمازوں کے ساتھ سنتیں معاف نہیں ہیں، کیونکہ نبی اکرم نے سفر میں کبھی فجر کی سنت اور وتر کی نماز نہیں چھوڑی.
"بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔" (سورۃ العنکبوت: 45)
سوال 2: نماز کے لیے وضو کیوں ضروری ہے؟
جواب: وضو جسمانی اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ نماز کے لیے پاک صاف ہونا شرط ہے اور وضو کے ذریعے انسان اللہ کے حضور صاف دل اور جسم کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔
سوال 3: کیا نماز کے بغیر کوئی نیک عمل قبول ہوگا؟
جواب: حدیث میں آیا ہے: "قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر وہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی قبول کیے جائیں گے۔"
نماز تمام اعمال کی قبولیت کی شرط ہے۔
سوال 4: کیا عورتوں پر نماز جمعہ واجب ہے؟
جواب: عورتوں پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے، لیکن اگر وہ مسجد جا کر پڑھیں تو ان کی نماز ہو جائے گی۔ گھر میں ظہر کی نماز پڑھنا ان کے لیے کافی ہے۔
سوال 5: قصر نماز کب اور کیسے پڑھی جاتی ہے؟
جواب: سفر کی حالت میں قصر نماز پڑھی جاتی ہے، جب انسان 48 میل یا اس سے زیادہ کا سفر کرے۔ اس میں چار رکعت والی فرض نمازیں (ظہر، عصر، عشاء) دو رکعت کر دی جاتی ہیں۔
سوال 6: اگر کوئی شخص نماز میں بھول جائے تو کیا کرے؟
جواب: اگر نماز میں کوئی غلطی ہو جائے، جیسے کوئی فرض یا واجب چھوٹ جائے، تو سجدہ سہو کیا جاتا ہے۔ نماز کے آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے دو اضافی سجدے کیے جاتے ہیں۔
سوال 7: فجر کی نماز کا وقت کب تک ہوتا ہے؟
جواب: فجر کی نماز کا وقت صبح صادق سے شروع ہو کر سورج نکلنے تک ہوتا ہے۔ سورج نکلنے کے بعد فجر کی قضا نماز پڑھی جاتی ہے۔
سوال 8: کیا بیمار شخص نماز چھوڑ سکتا ہے؟
جواب: نماز کسی بھی حالت میں معاف نہیں ہے۔ بیمار شخص اپنے حالات کے مطابق نماز ادا کرے، اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر، اور اگر بیٹھ کر بھی ممکن نہ ہو تو لیٹ کر اشاروں سے نماز ادا کرے۔
سوال 9: نماز کے دوران ہنسنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: نماز کے دوران ہنسنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے اور اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
سوال 10: کیا نماز کے دوران کپڑوں کا مخصوص رنگ ہونا ضروری ہے؟
جواب: نماز کے لیے کپڑوں کا رنگ مخصوص نہیں، لیکن کپڑے پاک اور ستر پوش ہونے چاہییں۔
یہ چند سوالات اور جوابات ہیں جو نماز اور اس کے احکام کو واضح کرتے ہیں۔ اگر مزید سوال ہوں تو ضرور بتائیں۔
سوال 11: کیا غیر مسلم کے لیے نماز پڑھنا جائز ہے؟
جواب: نماز ایک مسلمان کی عبادت ہے، اور غیر مسلم کے لیے سب سے پہلے اسلام قبول کرنا ضروری ہے۔ ایمان لانے کے بعد ہی نماز فرض ہوتی ہے۔
سوال 12: اگر نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: اگر نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو فوراً نماز توڑ دیں، دوبارہ وضو کریں اور نماز کو نئے سرے سے شروع کریں۔
سوال 13: کیا ایک امام کی اقتداء میں مختلف مسلک کے افراد نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، مختلف مسلک کے افراد ایک امام کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتے ہیں، بشرطیکہ امام کے نماز پڑھانے کا طریقہ شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
سوال 14: کیا قرآن کی سورہ کو بھول جانے سے نماز باطل ہو جاتی ہے؟
جواب: اگر کوئی سورہ بھول جائے اور دوسری سورہ پڑھ لے تو نماز باطل نہیں ہوتی، لیکن وہ سورہ یاد کر کے آئندہ درست پڑھنے کی کوشش کرے۔
سوال 15: اگر عشاء کی نماز قضا ہو جائے تو کب پڑھنی چاہیے؟
جواب: عشاء کی قضا نماز فجر سے پہلے کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔ اگر فجر کا وقت ہو جائے تو عشاء کی قضا فجر کے بعد ادا کی جا سکتی ہے۔
سوال 16: کیا نماز میں موبائل کی گھنٹی بجنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
جواب: نماز نہیں ٹوٹتی، لیکن نماز کے ادب کے خلاف ہے۔ اگر ممکن ہو تو گھنٹی بند کرنی چاہیے، اور بہتر ہے کہ نماز سے پہلے موبائل کو خاموش کر لیا جائے۔
سوال 17: کیا بچوں کو نماز کی عادت ڈالنی ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں، حدیث میں آیا ہے:
"اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور دس سال کی عمر میں اگر نہ پڑھیں تو سختی کرو۔" یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو نماز کی اہمیت سکھائیں۔
سوال 18: نماز میں بھول جانے کی صورت میں رکعتیں کیسے یاد کی جائیں؟
جواب: اگر رکعتوں کی تعداد میں شک ہو تو یقین والے پر عمل کریں، یعنی کم رکعت کو شمار کریں، اور آخر میں سجدہ سہو کر لیں۔
سوال 19: کیا تیمم سے نماز ہو سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، اگر پانی موجود نہ ہو یا بیماری کی وجہ سے وضو ممکن نہ ہو تو تیمم کر کے نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
سوال 20: کیا سفر کے دوران فجر کی سنتیں معاف ہیں؟
جواب: سفر کے دوران فرض نمازوں کے ساتھ سنتیں معاف نہیں ہیں، کیونکہ نبی اکرم نے سفر میں کبھی فجر کی سنت اور وتر کی نماز نہیں چھوڑی.
0 Comments
please do not enter any spam link in the comment box.thanks